صوفیانہ شاعری

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - ایسی شاعری جس میں عشق مجازی کے بجائے حقیقی یا مذہبی جذبات کی عکاسی کی گئی ہو یا جس میں متصوخانہ خیالات کا اظہار کیا گیا ہو۔ "صوفیانہ شاعری کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ ان الفاظ اور خیالات سے بالکل پاک ہوتی ہے جو . متانت کے خلاف ہیں۔"      ( ١٩١٤ء، شعرالعجم، ٨٨:٥ )

اشتقاق

عربی زبان سے ماخوذ مرکب توصیفی ہے۔ عربی سے ماخوذ اسم صفت 'صوفیانہ' کے ساتھ عربی ہی سے مشتق اسم 'شاعری' بطور موصوف ملنے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٩١٤ء کو "شعرالعجم" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ایسی شاعری جس میں عشق مجازی کے بجائے حقیقی یا مذہبی جذبات کی عکاسی کی گئی ہو یا جس میں متصوخانہ خیالات کا اظہار کیا گیا ہو۔ "صوفیانہ شاعری کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ ان الفاظ اور خیالات سے بالکل پاک ہوتی ہے جو . متانت کے خلاف ہیں۔"      ( ١٩١٤ء، شعرالعجم، ٨٨:٥ )

جنس: مؤنث